CSS past paper
CSS Urdu Literature Past Paper 2026
CSS Urdu Literature 2026 carries 100 marks over 3 hours. It has 4 questions.
- Marks
- 100
- Time
- 3 hours
- Questions
- 4
How to attempt: Attempt ALL questions.
Questions
Question 1 (Part I) is the paper's MCQs, which are not reproduced here.
- Q. 2
- (الف)درج ذیل میں سے کسی ایک جزو کی تشریح کیجئے اور شاعر کا نام بھی لکھیئے۔(15)
- (جزواوّل)
- (1)یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالمجہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
- (2)دوست غم خواری میں میری سعی فرماویں گے کیازخم کے بھرتے تلک ناخن نہ بڑھ جاویں گے کیا
- (3)ملتفت حال پہ رہنا ہے مرے اب موقوفبات گر دن کو کوئی ہوگئی تو شب موقوفاے فریبندہ سخن رابطے کے سب موقوفمہر و الطاف و عنایات و کرم جب موقوف
- (جزودوم)شام کی راکھ میں لتھڑی ہوئی ڈھلوانوں پرایک ریوڑ کے تھکے قدموں کا مدھم آہنگجس کی ہر لہر دھندلکوں میں لڑھک جاتی ہےمست چرواہا چراگاہ کی اک چوٹی سےجب اترتا ہے تو زیتون کی لانبی سونٹیکسی جلتی ہوئی بدلی میں اٹک جاتی ہےبکریاں دشت کی مہکار میں گوندھا ہوا دودھچھاگلوں میں لیے جب رقص کناں آتی ہیںکوئی چوڑی خم دوراں پہ چھنک جاتی ہےجست بھرتی ہے کبھی اور کبھی چلتے چلتےناچتی ڈار ممکتے ہوئے بزغالوں کیہر جھکی شاخ کی چوکھٹ پہ ٹھٹک جاتی ہےسان پر لاکھ چھری سیخ پہ صد پارہ گوشتپھر بھی مدہوش غزالوں کی یہ ٹولی ہے کہ جوبار بار اپنے خط رہ سے بھٹک جاتی ہےشام کی راکھ میں لتھڑی ہوئی ڈھلوانوں پرکھیلتی ہے غم ہستی کی وہ شاداں سی امنگجس کی رو وقت کی پہنائیوں تک جاتی ہے
- (ب)مندرجہ ذیل میں سے کسی ایک کا جواب دیجیئے۔(10)
اقبال کی شاعری میں خودی اور قومیت کے تصورات کے عصری مفہوم پر بحث کریں۔
یا
مجید امجد کی شاعری میں فطرت کو کس طرح علامتی سطح پر انسانی جذبات اور تجربات کی عکاسی کے طور پر پیش کیا گیا ہے؟
- Q. 3
- (الف)پاکستانی ادب کی شناخت اور روایت میں جدیدیت اور روایتی موضوعات کے درمیان تناؤ کو کیسے بیان کیا جا سکتا ہے؟(15)
یا
منٹو کے افسانوں میں موجود انسانیت کے المیے اور اخلاقی انتشار کو معاصر معاشرتی حالات میں کس طرح بیان کیا جا سکتا ہے؟ کیا یہ آج کے معاشرتی تناظر میں ان کے افسانوں کی اہمیت کو مزید بڑھاتا ہے؟
- (ب)درج ذیل اقتباسات میں سے کسی ایک کی تشریح کیجئے ۔ مصنّف اور کتاب یا مضمون کا حوالہ بھی دیجئے۔(10)
تب باپ نے درانتی اپنے کندھے پر رکھ لی۔ گل بانو کو اپنے بازو میں سمیٹ لیا اور رونے لگا۔ پھر وہ بیگ سے برات لانے کی بات پکی کر کے گاؤں واپس آ گیا۔ برات سے تین روز پہلے گل بانو کو مایوں بٹھا دیا گیا اور اسے اتنی مہندی لگائی گئی کہ اس کی ہتھیلیاں سرخ، پھر گہری سرخ اور پھر سیاہ ہو گئیں اور تین دن تک آس پاس کی گلیاں گل بانو کے گھر سے امڈتی ہوئی مہندی کی خوشبو سے مہکتی رہیں۔ پھر رات کو تاروں کی چھاؤں میں برات کو پہنچنا تھا اور دن کو لڑکیاں گل بانو کی ہتھیلیوں کو مہندی سے تھوپ رہیں تھیں کہ دور ایک گاؤں سے ایک نائی آیا اور اس نے گل بانو کے باپ کو بتایا کہ کل زمیندار ہرن کے شکار پر گیا تھا اور بیگ اس کے ساتھ تھا۔ جنگل میں زمیندار کے پرانے دشمن زمیندار کی تاک میں تھے انہوں نے اس پر حملہ کر دیا اور بیگ اپنے مالک کو بچانے کی کوشش میں مارا گیا۔ آج جب میں وہاں سے چلا تو بیگ کی ماں اپنے بیٹے کی لاش کے سر پر سہرا باندھے اپنے بال نوچ نوچ کر ہوا میں اڑا رہی تھی۔
یا
’’یہ میری عجیب د یوانی بیٹی ہے۔‘‘ عورت نے اپنے برقعے کے ٹچ کھولتے ہوے کہا، ’’یہ میری سب سے چھوٹی بیٹی ہے۔ آپ نے اس کا چہرہ تو ابھی نہیں دیکھا مگر اس کا قد تو پسند ہے نا آپ کو؟‘‘ الیاس بولا، ’’جی ہاں۔۔۔ سبحان اللہ!‘‘ میں نے ایک جھٹکے کے ساتھ پلٹ کر الیاس کو دیکھا۔ اتنے پیارے اور مقدس الفاظ اس نے کتنے اوباش لہجے میں ادا کیے تھے۔ الیاس میری اس حرکت سے بہت محظوظ ہوا۔ وہ ہنسنے لگا اور بولا، ’’یہ میرے دوست ہیں مگر بہت شرمیلے۔ ان سے قسم لے لیجیے جو انہوں نے آج تک کسی عورت کو چھوا بھی ہو۔ ان کا نام رؤف ہے مگر آپ انہیں مردوں کا بلقیس سمجھ لیجیے۔‘‘
- Q. 4درج ذیل نثرپاروں میں سےکسی ایک کی تلخیص کیجئے۔(10)
اچھے برے ہر قوم میں ہوتے ہیں۔ شریف افسر خاں صاحب کی سچائی اور دیانت داری اور جفاکشی کی بڑی قدر کرتے تھے اور ان کو اپنی اردلی میں رکھتے تھے۔ مگر بعض ایسے بھی تھے کہ جن کے سر میں خنّاس سمایا ہوا تھا۔ انہیں خاں صاحب کے یہ ڈھنگ پسند نہ تھے اور وہ ہمیشہ ان کے نقصان کے درپے رہتے تھے۔ ایسے لوگ اپنی اور اپنی قوم والوں کی خودداری کو جوہر شرافت سمجھتے تھے۔ لیکن اگر یہی جوہر کسی دیسی میں ہوتا تو اسے غرور اور گستاخی پر محمول کرتے ہیں۔ تاہم ان کے اکثر انگریز افسران ان پر بہت مہربان تھے۔ خاص کر کرنل فرن ٹین ان پر بڑی عنایت کرتے تھے اور خاں صاحب پر اس قدر اعتبار تھا کہ شاید کسی اور پر ہو۔ جب کرنل صاحب نے اپنی خدمت سے استعفیٰ دیا تو اپنا تمام مال و اسباب اور سامان جو ہزارہا روپے کا تھا خاں صاحب کے سپرد کرگئے۔ یہ امر انگریز افسروں کو بہت ناگوار ہوا۔ اس وقت کے کمانڈنگ افسر سے نہ رہا گیا اور اس نے کرنل موصوف کو لکھا کہ آپ نے ہم پر اعتماد نہ کیا اور ایک دیسی دفعدار کو اپنا تمام قیمتی سامان حوالے کر گئے۔ اگر آپ یہ سامان ہمارے سپرد کر جاتے تو اسے اچھے داموں میں فروخت کرکے قیمت آپ کے پاس بھیج دیتے۔ اگر اب بھی لکھیں تو اس کا انتظام ہو سکتا ہے۔ کرنل نے جواب دیا کہ مجھے نور خاں پر تمام انگریز افسروں سے زیادہ اعتماد ہے۔ آپ کو زحمت کرنے کی ضرور نہیں ہے۔ اس پر یہ لوگ اور برہم ہوئے۔ ایک بار کمانڈنگ افسر یہ سامان دیکھنے آیا اور کہنے لگا کہ فلاں فلاں چیز میم صاحب نے ہمارے ہاں سے منگائی تھی۔ چلتے وقت واپس کرنی بھول گئے۔ اب تم یہ سب چیزیں ہمارے بنگلے پر بھیج دو۔
یا
اس تقریب میں شرکت کے دعوت نامے کے ساتھ جب مجھے مطلع کیا گیا کہ میرے تقریباتی فرائض خالصتاً رسمی اور حاشیائی ہوں تو مجھے ایک گونہ اطمینان ہوا۔ ایک گونہ میں رواروی میں لکھ گیا، ورنہ سچ پوچھئے تو دو گونہ اطمینان ہوا۔ اس لئے کہ مجھےاطمینان دلایا گیاکہ رسم اجرا نہایت مختصر وسادہ ہو گئی۔ اس میں وہی ہو گا جو اس طرح کے شاموں میں شایان شان ہوتا ہے یعنی کچھ نہیں ہو گا۔ بس صاحب شام (میں نے جان بوجھ کر صاحبہ شام نہیں کہا) شاہدہ حسن کی تاج پوشی نہیں ہو گی۔ میرے تردّدتامّل اور اس وضاحت کا سبب یہ تھاکہ ایک ہفتے قبل میں شاہدہ کا ایک خیال انگیز تعارفی مضمون مخدومی ومکرمی جناب جاذب قریشی کی تاج پوشی کی تقریب سعید میں سن چکا تھا۔جاذب صاحب کی شاعری اور تنقید کا دل پذیر سلسلہ، نصف صدی کا قصہ ہے، دو چار برس کی بات نہیں۔ ایک عمر کےریاض، مہارت تامّہ، ژرف نگاہی، وضعداری اور ادبی سیر چشمی کی جتنی تعریف کی جائے، کم ہے۔ تعجب اس پر ہواکہ جیسا تاج پیرو مرشد کو عقیدت مندوں نے پہنایا، ویسا تاج امریکہ میں حسینئہ عالم کو اور پنجاب میں صرف دلہن کو پہنایا جاتا ہے۔ دولہا کے سر پر تو سہ غزلے کی لمبائی کے برابر اونچی طرّے دار کُلاہ ہوتی ہے۔ پنجاب میں اگر دولہا ایسا زنانہ تاج پہن کرآجائے تو قاضی نکاح پڑھانے سے انکار کر دے گا۔ اور اگر نکاح ایک دن قبل ہو چکا ہے تو دلہن والے نکاح ٹوٹنے کا اعلان کر دیں گے۔ دلہن اپنے بائیں دستِ حنائی سے دائیں ہاتھ کی ہری ہری چوڑیاں توڑ دے گی اور دائیں ہاتھ سے بائیں کی۔ پھر اُن ہی سونٹا سے ہاتھوں سے دھکّے دے کر ہریالے بنڑے کو عقد گاہ سے یہ کہہ کر باہر نکال دے گی کہ عقد عقد سمجھ مشغلئہ دل نہ بنا
- Q. 5کسی ایک موضوع پر سیر حاصل مضمون لکھیئے۔(20)
- (الف)پاکستانی دور کے فکشن کے فکری رجحانات
- (ب)پاکستانی ادب کی تشکیل میں اردو اور دیگر مقامی زبانوں کا کردار
- (ج)فیض احمد فیض کی شاعری جدیدیت اور سماجی حقیقت پسندی کا امتزاج
- Part-II is to be attempted on the separate Answer Book.
- Attempt ALL questions.
- All the parts (if any) of each Question must be attempted at one place instead of at different places.
- Write Q. No. in the Answer Book in accordance with Q. No. in the Q.Paper.
- No Page/Space be left blank between the answers. All the blank pages of Answer Book must be crossed.
- Extra attempt of any question or any part of the question will not be considered.