Skip to content
All Urdu Literature papers

CSS past paper

CSS Urdu Literature Past Paper 2021

CSS Urdu Literature 2021 carries 100 marks over 3 hours. It has 4 questions.

Marks
100
Time
3 hours
Questions
4

How to attempt: Attempt ALL questions.

Questions

Question 1 (Part I) is the paper's MCQs, which are not reproduced here.

  1. Q. 2
    • (الف)
      درج ذیل میں سے کسی ایک جزو کی تشریح کیجئے اور شاعر کا نام بھی لکھیئے۔
      (15)
      • (جزو اوّل)
        • (1)
          فروغِ شعلۂ خس یک نفس ہےہوس کو پاسِ ناموسِ وفا کیا
        • (2)
          نفس موجِ محیط بے خودی ہےتغافل ہائے ساقی کا گلہ کیا
        • (3)
          دماغِ عطر پیراہن نہیں ہےغمِ آوارگی ہائے صبا ، کیا
        • (4)
          یہ قاتل وعدہ صبر آزما کیوںیہ کافر فتنہ طاقت ربا کیا؟
      • (جزو دوم)
        نئے سرے سے غضب کی سج کرعجوزۂ سومنات نکلیمگر ستم پیشہ غزنویاپنے حجلۂ خاک میں ہے خنداںوہ سوچتا ہےبھری جوانی سہاگ لوٹا تھا میں نے اُس کامگر مرا ہاتھاُس کی روحِ عظیم پر بڑھ نہیں سکا تھااور اب فرنگی یہ کہہ رہا ہےکہ آؤ آؤ اس ہڈیوں کے ڈھانچے کوجس کے مالک تمہیں ہوہم مل کر نورِ کم خوب سے سجائیں
    • (ب)
      مندرجہ ذیل میں سے کسی ایک کا جواب لکھیے ۔

      The second option is printed with its words out of order; the sense is: ن۔م۔راشد نے ’’ایران میں اجنبی‘‘ کے دوسرے حصے کو (Contes) کانتو کہا ہے۔

      (10)

      فیض کی شاعری میں جذبہ اور نظریہ دونوں موجود ہیں۔ ڈاکٹر انور سدید کے اس خیال کی روشنی میں دستِ صبا کا تجزیاتی مطالعہ پیش کیجیے۔

      یا

      ’’ایران میں (Contes) کانتو کہا ہے۔ اس اجمال کی تفصیل پیش کرتے ہوئے ان نظموں اجنبی‘‘ کے دوسرے حصے کو ن۔م۔راشد نے کے فنی خصائص پر بھی بحث کیجیے۔

  2. Q. 3
    • (الف)
      احمد ندیم قاسمی نے پنجاب کے دیہات کو اُردو ادب میں اعتبار بخشا ’’کپاس کا پھول‘‘ کے تناظر میں بحث کیجیے۔
      (15)

      یا

      منٹو کو برصغیر کا تخلیقی ضمیر کہا گیا ہے۔ شاید اسی لیے منٹو کا افسانہ کبھی بھی زائد المیعاد نہیں ہوا۔ اس اجمال کی تفصیل پیش کیجیے۔

    • (ب)
      مندرجہ ذیل میں سے کسی ایک اقتباس کی تشریح کریں۔نیز مصنف و مضمون کا نام بھی لکھیے۔
      (10)

      مسلمان مصنّفین بے ضرورت اُردو میں فارسی کے غیر مانوس الفاظ استعمال کرنے سے جہاں تک ہو سکے پرہیز کریں۔ اور ان کی جگہ برج بھاشا کے مانوس اور عام فہم الفاظ سے اُردو کو مالامال کرنے کی کوشش کریں۔ اور اس طرح دونوں قوموں میں آشتی اور صلح کی بنیاد ڈالیں اور ایک متنازعہ فیہ زبان کو مقبولۂ فریقین بنائیں جیسی کہ لکھنو جانے سے پہلے تقریباً اہلِ دہلی کی زبان تھی۔ مذکورہ بالا اختلاف کے متعلق جو تعصب اور ناگواری کا الزام ہندوؤں پر لگایا جا سکتا ہے اس قسم کابلکہ اس سے زیادہ سخت الزام مسلمانوں پر لگایا جا سکتا ہے۔

      یا

      اس زمانے میں کن میلئے محلوں بازاروں میں پھیری لگاتے تھے۔ کان کا میل نکالنے پر ہی کیا موقوف دنیا جہاں کے کام گھر بیٹھے ہو جاتے تھے۔ سبزی گوشت اور سودا سلف کی خریداری، حجامت، تعلیم، زچگی، پیڑھی، کھاٹ، کھٹولے کی۔۔۔ یہاں تک کہ خود اپنی مرمت بھی۔ سب گھر بیٹھے ہو جاتی۔ بیبیوں کے ناخن نہرنی سے کاٹنے اور پیٹھ ملنے کے لیے نائنیں گھر آتی تھیں۔ کپڑے بھی مغلانیاں گھر آکر سیتی تھیں تاکہ نامحرموں کو ناپ تک کی ہوا نہ لگے۔ حالانکہ اس زمانے کے زنانہ پوشاک کے جو نمونے ہماری نظر سے گزرے ہیں وہ ایسے ہوتے تھے کہ کسی بھی لیٹر بکس کا ناپ لے کر سیئے جا سکتے تھے۔ غرضیکہ سب کام گھر ہی میں ہو جاتے تھے۔ حدیہ کہ موت تک گھر میں واقع ہوتی تھی۔ اس کے لیے باہر جا کر کسی ٹرک سے اپنی روح قبض کروانے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔

  3. Q. 4
    کسی ایک نثر پارے کی تلخیص کیجئے ۔
    (10)

    انسانی زندگی ایک ایسے عملِ مسلسل کا نام ہے جس کا طبعی تحرک کبھی ختم نہیں ہوتا اور جس کی صبا رفتاری کے آگے کسی قسم کی رکاوٹ کھڑی کرنا ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ برگساں نے زندگی کو ایک ایسے صبا رفتار گھوڑے سے تشبیہ دی ہے جو افق کی تلاش میں سرگرداں کسی مقام پر ٹھہرے بغیر بڑھتا چلا جاتا ہے۔ یوں بھی حرکت ایک مطلق حقیقت ہے اور سکون باعتبارِ اضافت ہے۔ جو زائد حرکت کی نسبت سے ساکن اور کم حرکت کی نسبت سے متحرک ہوتا ہے۔ اس تسلسل حیات کے برعکس جب جمود کا ذکر ہوتا ہے تو اس سے مراد زندگی کی رفتار کو روک دینا یا اسے جامد کرنا نہیں ہوتا بلکہ مقصد یہ ظاہر کرنا ہوتا ہے کہ زندگی سے تخلیق کی تازگی مفقود ہو گئی ہے اور اسلوبِ حیات ایک گِھسے پِٹے سانچے کو قبول کرنے لگا ہے۔ ایسی صورت میں زندگی کا تسلسل حیوانی سطح پر تو قائم رہتا ہے لیکن اس میں جدت اور تنوع کا کوئی پہلو نظر نہیں آتا۔

    یا

    زبان و ثقافت ایک قوم کی بائبل ہوتی ہے۔ یہ اُس کا نمک ذائقہ اور اس کی شان شناخت ہوتی ہیں۔ اس کی مرکزی موٹی جڑوں میں سے ایک ہوتی ہے۔زبان و ثقافت کسی قوم کے دل کا ساحل ہوتی ہے۔ یہ کسی قوم کی زندگی کا Vital Organ ہوتی ہیں جو قوم کی موت کی صورت میں بھی سب سے آخر میں مرتی ہیں۔ ہمارے کلچر کاغذی نہیں ہیں مصنوعی نہیں ہیں اور ریاستی نہیں ہیں۔ ہمارے زندہ کلچرز اپنی زمین میں پیوست ہیں اور عوامی ہیں ہمارے کلچرز اور زبانوں نے تبدیل پذیر رجحانات سے نمٹا ہے۔ تاریخ کے پورے دورانیے میں وہ ڈیموگرافکس، ٹیکنالوجی، گلوبلائزیشن اور اس کے ویلیوسسٹم سے کامیابی کے ساتھ معاملات کرتے آرہے ہیں۔ چنانچہ ہماری مادری اور قومی ثقافتیں اس قدر مضبوط و توانا ہیں کہ انہیں کسی بھی احساسِ کمتری میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

  4. Q. 5
    کسی ایک موضوع پر سیر حاصل مضمون لکھیئے۔
    (20)
    • (الف)
      نیوورلڈ آرڈز اور اُردو فکشن
    • (ب)
      حلقۂ اربابِ ذوق
    • (ج)
      فلسفہ وجودیت اور اُردو فکشن
  1. Part-II is to be attempted on the separate Answer Book.
  2. Attempt ALL questions.
  3. All the parts (if any) of each Question must be attempted at one place instead of at different places.
  4. Write Q. No. in the Answer Book in accordance with Q. No. in the Q.Paper.
  5. No Page/Space be left blank between the answers. All the blank pages of Answer Book must be crossed.
  6. Extra attempt of any question or any part of the question will not be considered.

FPSC's wording, numbering and marks, as printed. Obvious misprints (a garbled word, a broken number) are corrected; everything else is kept as FPSC printed it.

The written exam starts with the MPT

Only candidates who pass the MCQ screening test (MPT) sit the written papers. Practice the 200-question MPT under exam conditions first.