CSS past paper
CSS Urdu Literature Past Paper 2024
CSS Urdu Literature 2024 carries 100 marks over 3 hours. It has 4 questions.
- Marks
- 100
- Time
- 3 hours
- Questions
- 4
How to attempt: Attempt ALL questions.
Questions
Question 1 (Part I) is the paper's MCQs, which are not reproduced here.
- Q. 2
- (الف)درج ذیل میں سے کسی ایک جزو کی تشریح کیجئے اور شاعر کا نام بھی لکھیئے۔(16)
- (جزو اوّل)
- (1)یوں اٹھے آہ اس گلی سے ہمجیسے کوئی جہاں سے اٹھتا ہے
- (2)غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش ازیک نفسبرق سے کرتے ہیں روشن شمع ماتم خانہ ہم
- (3)حالِ دل ہم بھی سناتے لیکنجب وہ رخصت ہوا تب یاد آیا
- (4)بلا سے ہم نے نہ دیکھا تو اوردیکھیں گےفروغِ گلشن وصوتِ ہزار کا موسم
- (جزو دوم)مندرجہ ذیل بند کی تشریح کیجیے۔ شاعر اور نظم کا حوالہ بھی دیجیے:
ہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپپہلے اپنے پیکر خاکی میں جاں پیدا کرےپھونک ڈالے یہ زمین و آسماں مستعاراور خاکستر سے آپ اپنا جہاں پیدا کرےزندگی کی قوت پنہاں کو کر دے آشکارتا یہ چنگاری فروغ جاوداں پیدا کرےخاک مشرق پر چمک جائے مثال آفتابتا بدخشاں پھر وہی لعل گراں پیدا کرے
- (ب)مندرجہ ذیل میں سے کسی ایک کا جواب لکھیئے۔(9)
آپ کے خیال میں وہ کیا خصوصیا ت ہیں جو غالب کے دیوان کو عالمی ادبِ عالیہ کا حصّہ بناتی ہین۔ تحریر کیجیے۔
یا
کیا ناصر کاظمی کی غزل پہ میرؔ کا اثر نظر آتا ہے؟ "برگِ نے" کو مدنظر رکھتے ہوے جائزہ لیجیے۔
- Q. 3
- (الف)احمد ندیم قاسمی کے افسانوں کے مجموعے ’’کپاس کے پھول‘‘ کا تنقیدی جائزہ لیجیے۔(15)
یا
سیرت نگاری کے فن پہ روشنی ڈالتے ہوے شبلی نعمانی کی سیرت نگاری کا جائزہ لیجیے۔
- (ب)درج ذیل اقتباسات میں سے کسی ایک کی تشریح کیجیے ۔ مصنّف اور کتاب یا مضمون کا حوالہ بھی دیجیے۔(10)
نیکی کیا ہے اور بڑا آدمی کسے کہتے ہین۔ ہر شخص میں قدرت نے کوئی نہ کوئی صلاحیت رکھی ہے۔ اس صلاحیت کو درجہ کمال تک پہنچانے میں ساری نیکی اور بڑائی ہے ۔ درجہ کمال تک نہ کبھی کوئی پہنچا ہے نہ پہنچ سکتا ہے ۔ لیکن وہاں تک پہنچنے کی کوشش ہی میں انسان انسان بنتا ہے۔ یہ سمجھو کندن ہو جاتا ہے ۔ حساب کے دن جب اعمال کی جانچ پڑتال ہوگی خدا یہ نہیں پوچھے گا کہ تو نے کتنی اور کس کی پوجا پاٹ یا عبادت کی ۔ وہ کسی کی عبادت کا محتاج نہیں ۔ وہ پوچھے گا تو یہ پوچھے گا کہ میں نے جو استعداد تجھ میں ودیعت کی تھی اُسے کمال تک پہنچانے اور اُس سے کام لینے میں تو نے کیا کیا اور خلق اللہ کو اس سے کیا فیض پہنچایا۔
یا
بیٹی کے گھر ٹکڑے توڑنے یا اس پر بار بننے کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ کانپور میں کبھی اس کے ہاں کھڑے کھڑے ایک گلاس پانی بھی پیتے تو ہاتھ پر پانچ دس روپے رکھ دیتے۔ لیکن اب؟ صبح سر جھکائے ناشتہ کر کے نکلتے تو دن بھر خاک چھان کر مغرب سے ذرا پہلے لوٹتے ۔ کھانے کے وقت کہہ دیتے کہ ایرانی ہوٹل میں کھا آیا ہون۔ جوتے انہوں نے ہمیشہ رحیم بخش جفت ساز سے بنوائے، اس لئے کہ اس کے بنائے ہوئے جوتے چرچراتے بہت تھے۔ ان جوتوں کے تلے اب اتنے گِھس گئے تھے کہ چر چرانے کے لائق نہ رہے۔ پیروں میں ٹھیکیں پڑ گئین۔ شیروانیاں ڈھیلی ہو گئین۔ بیمار بیوی رات کو درد سے کراہ بھی نہیں سکتی تھی کہ سمدھیانے والوں کی نیند خراب ہونے کا اندیشہ تھا۔ ململ کے کرتوں کی لکھنوی کڑھائی مَیل میں چھپ گئی۔ چنّٹیں نکلنے کے بعد آستینیں انگلیوں سے ایک ایک بالشت نیچے لٹکی رہتین۔ خضابی مونچھوں کابل تو نہیں گیا، لیکن صرف بل کھائی ہوئی نوکیں سیاہ رہ گئین۔
- Q. 4درج ذیل نثرپاروں میں سےکسی ایک کی تلخیص کیجئے۔(10)
شعور کی رو کا تصور امریکی ماہر نفسیات جیمز ولیم کی عطا ہے۔ جیمز ولیم نے معروض کو تجربے کا عکس قرار دیا اور موضوع اور معروض کے درمیان ایسا تلازماتی رشتہ تلاش کیا جو کسی منطقی ربط کے بغیر زندگی بھر قائم رہتا ہے۔ انسان گفتگو کے ذریعے اس کا کچھ حصہ ظاہر کر دیتا ہے لیکن زیادہ حصہ زیرِ سطح گم رہتا ہے۔ نفسیات کے ماہرین نے اس گم شدہ حصّے کواہم تصور کیا اور اس کی متحرک قوت سے بیش قیمت نتائج اخذ کئے۔آزاد تلازمہ خیال فکری رجحان نہیں بلکہ ایک نفسیاتی کیفیت ہے۔ چنانچہ اس تحریک میں منظر اور پیش منظر کا پھیلاؤ زیادہ ہے اور وقت کی ابعاد ایک نقطے پر جمع ہو جاتی ہین۔ چنانچہ ناول ایک خاص لمحے میں گردش کرنے کے باوجود پوری زندگی کا ترجمان بن جاتا ہے۔ مثال کے طور پر جیمز جوائس کا ناول "یولی سس" چند گھنٹوں کا بیانیہ ہے لیکن اس میں زندگی کی تمام حدیں سمٹ گئی ہیں ۔ ڈور تھی رچرڈسن کا ناول’’ پوانٹڈ روف‘‘ صرف ایک کردار کو منظر پر لاتا ہےلیکن یہ در اصل پوری زندگی کا سیر بین ہے ۔ مارسل پروسٹ کے ناول’’ ری میمبر نس آف تھنگس آف پاسٹ‘‘ میں بھی تھوڑے سے وقت میں زندگی کا پورا سفر طے ہو جاتا ہے۔ ورجینیا وولف کا ناول "مسزڈلاوے‘‘ ایک دن کا بیانیہ ہے لیکن شعورِ ماضی اس تنظیم کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے کہ ناول زندگی اور معاشرے کا عکاس بن جاتا ہے۔ خود کلامی کی وجہ سے آزاد تلازمہ خیال کی تکنیکی بُنَت زیادہ اہمیت رکھتی ہے چنانچہ جیرالڈ گولڈ نے اس پہ بے ربطی اور انتشار کا الزام عاید کیا اور ٹیلیفون ڈائرکٹری کو انتخاب کی سختی کے باعث یولی سیس سے بہتر فن پارہ قرار دیا ۔ جیرالڈ گولڈ کی یہ رائے اس لئے قابلِ اعتنا نہیں کہ آزاد تلازمہ خیال میں ذہنی عمل پر کوئی شعوری یا خارجی پابندی عائد نہیں ہوتی اور زندگی کے حقائق اپنے فطری انداز میں لاشعور سے شعور کی سطح پر آتے چلے جاتے ہیں ۔ ان سب کو فنکار کا تخلیقی عمل فن کی ڈوری میں مسلسل گوندھتا چلا جاتا ہے ۔ چنانچہ قاری اس میں معنوی اور واقعاتی ربط تلاش کر لیتا ہے اور یوں اس میں تخلیقی حسن بھی پیدا ہو جاتا ہے ۔ آزاد تلازمہ خیال کی تحریک نے اظہار کا ایک نیا طریق دریافت کیا ۔ اور ناول کے محدود میدان میں انسانی زندگی، تاریخ اور تہذیب کا پورا ’کُل‘ پیش کر دیا ۔ بیسویں صدی میں اس تحریک کے اثرات لمبے عرصے پر پھیلے ہوئے ہیں، چنانچہ کئی ناول نگاروں نے فلم کی ٹیکنیک کو ادب میں موسیقی اور شاعری کے سانچے سے ہم آہنگ کر کے ذہن کو جسمانی سطح پر متحرک رکھنے کی سعی کی ۔
یا
تقسیم ہند کے بعد جب ایک نیا ماحول پیدا ہوا تو اردو ادب کے مزاج میں کئی بنیادی تبدیلیاں وقوع پذیر ہوئیں ۔پاکستان کا قیام انتہائی پر امن ماحول میں نہیں ہوا تھا۔ تصادم کی فضا جو ۱۹۳۰ء کے عشرے میں پیدا ہوئی ، وہ پروان چڑھتی رہی اور جب دو آزاد مملکتیں وجود پا گئیں تو اسی کے ساتھ فسادات پھوٹ پڑے۔ یہ فسادات اپنے ساتھ آگ اور خون کی ہولی لے کر آئے جو پورے ہندوستان میں کھیلی گئی ۔ دونوں طرف نقصان ہوا۔ قتل و غارت گری ،لوٹ مار، عصمت دری اور اغوا کے ایسے ہولناک واقعات ہوئے جن کی کوئی اور مثال نہیں ملتی۔ان تمام عوامل کا اثرادب پر پڑنا لازم تھا۔ فسادات کا یہ ادب زیادہ دیر تک بر قرار نہ رہ سکا۔ جذبات کا دریا اترا تو ایسی تخلیقات میں کمی واقع ہونے لگی جن میں فرقہ وارانہ تصادم کی کہانیاں تھیں لیکن تقسیم ہند کےعواقب و نتائج کا ذکر پاکستانی ادب کے رگ و پے میں اس طرح سرایت کر چکا ہے کہ آج بھی ہم اپنے ادب پر اس کے اثرات بخوبی دیکھ سکتے ہین۔ تقسیم ہند سے محض فسادات کا ادب ہی پیدا نہیں ہوا، کچھ اور نئے عوامل بھی اس کا حصہ بنے۔ ہندوستان سے ہجرت کر کے آنے والے لوگوں کے ہاں وہ دکھ بھی اجاگر ہوا جو نقل مکانی کے باعث فطری طورپر ان کے اندر پیدا ہوا تھا۔قیام پاکستان کے پیچھے بر صغیر کے مسلمانوں کے وہ خواب پوشیدہ تھے جو ہندو اکثریت کی موجودگی میں تعبیر نہ پاسکتے تھے۔ توقع یہ تھی کہ پاکستان بننے کے بعد یہ خواب پورے ہوں گے مگر تقسیم ہند کے فورا بعد کے سیاسی خلفشار نے ایسا ماحول پیدا کیا کہ سب خواب ابتداہی میں چکنا چور ہو گئے۔ یہی وجہ ہے کہ تقسیم کے بعد فسادات کے ادب کے ساتھ ساتھ رائیگانی کا ایک عنصر بھی ہمیں اپنے شعر وادب میں شامل دکھائی دے جاتا ہے۔قیام پاکستان کے وقت تک ترقی پسند تحریک اپنے عروج پر تھی۔ یہ تحریک بنیادی طور پر سماجی انصاف کی تحریک تھی اور ایک غیر طبقاتی سماج کا خواب دیکھتی تھی۔ لیکن تقسیم سے قبل اس نے انگریزی سامراج کے خلاف جدوجہد کا بیڑا بھی اٹھا رکھا تھا۔ اب جب پاکستان بن گیا تو نئے مسائل کو ایک نئے زاویہ نظر کی ضرورت تھی۔ انگریزی سامراج رخصت ہو چکا تھا۔ سماجی انصاف اب بھی ایک بنیادی ضرورت تھی لیکن پاکستان میں رونما ہونے والے سیاسی خلفشار کے باعث ایک نیا عامل بھی پیدا ہو گیا تھا اور وہ عامل خود پاکستان کے وجود کا تحفظ تھا۔
- Q. 5کسی ایک موضوع پر سیر حاصل مضمون لکھیئے۔(20)
- (الف)مصنوعی ذہانت۔ اردو زبان کے لیے مواقع اور مشکلات
- (ب)اردو زبان کا وقار کیسے بلند کیا جائے؟
- (ج)عہد جدید میں اردو غزل
- Part-II is to be attempted on the separate Answer Book.
- Attempt ALL questions.
- All the parts (if any) of each Question must be attempted at one place instead of at different places.
- Write Q. No. in the Answer Book in accordance with Q. No. in the Q.Paper.
- No Page/Space be left blank between the answers. All the blank pages of Answer Book must be crossed.
- Extra attempt of any question or any part of the question will not be considered.