All Urdu Literature papers
CSS past paper
CSS Urdu Literature Past Paper 2019
CSS Urdu Literature 2019 carries 100 marks over 3 hours. It has 4 questions.
- Marks
- 100
- Time
- 3 hours
- Questions
- 4
How to attempt: Attempt ALL questions.
Questions
Question 1 (Part I) is the paper's MCQs, which are not reproduced here.
- Q. 2
- (الف)درج ذیل میں سے کسی ایک جزو کی تشریح کیجیے اور شاعر کا نام بھی لکھیے۔(15)
- (جزو اوّل)
- (۱)تھی وہ اک شخص کے تصور سےاب وہ رعنائی خیال کہاں
- (۲)اصل شُہود و شاہد و مشہود ایک ہےحیراں ہوں پھر مشاہدہ ہے کس حساب میں
- (۳)پرتوِ خور سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیممیں بھی ہوں ایک عنایت کی نظر ہونے تک
- (۴)رکھتے ہو تم قدم مری آنکھوں سے کیوں دریغرُتبے میں مہر و ماہ سے کم تر نہیں ہوں میں
- (جزو دوم)تند و سبک سَیر ہے گرچہ زمانے کی روعشق خود اک سیل ہے، سیل کو لیتا ہے تھامعشق کی تقویم میں عصرِ رواں کے سوااور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نامعشق کے مضراب سے نغمہء تارِ حیاتعشق سے نورِ حیات، عشق سے نارِ حیات
- (ب)مندرجہ ذیل میں سے کسی ایک سوال کا جواب دیجیے۔مجید امجد کی شاعری میں لمحہء موجود کی معنویت اجاگر کریں۔یا“ایران میں اجنبی” کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے راشد کی نظموں کا سماجیاتی مطالعہ پیش کریں۔(10)
- Q. 3
- (الف)روایت اور درایت سے کیا مراد ہے؟ “سیرۃ النبی ﷺ” کی تالیف میں مولانا شبلی نے ان اصولوں کو کس حد تک اختیار کیا؟یامشتاق احمد یوسفی کی دیگر تصانیف اور “آب گم” کا تقابلی مطالعہ پیش کیجیے۔(15)
- (ب)درجہ ذیل میں سے کسی ایک اقتباس کی تشریح کیجیے نیز مضمون کا عنوان اور مصنف کا نام بھی لکھیے۔خود مختار حکومتوں میں ایک بڑا عیب یہ ہوتا ہے کہ ان میں سازشوں کی بہت گنجائش ہوتی ہے۔ ہر شخص کی (خواہ وہ کوئی ہو) یہ کوشش ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح “سرکار” کو خوش کر لیا جائے جس سے “پیا” خوش، اسی کا راج۔ اس سعی میں رقابت ہوتی ہے اور رقابت سے طرح طرح کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کا سلسلہ چلتا ہے۔ اس کش مکش سے کذب و افترا، بہتان، مخبری، غرض کوئی ایسی حرکت نہیں ہوتی جو حریف ایک دوسرے کے خلاف کام میں نہ لاتے ہوں۔ یہ ایک عجیب اسرار ہے جس کا سلسلہ دُور دُور تک پہنچتا ہے اور عجیب رنگ میں ظہور پذیر ہوتا ہے اور ایسے حیرت انگیز نتائج پیدا ہوتے ہیں جس کا سان گمان بھی نہیں ہوتا۔یاانسان کی زندگی بہت تھوڑی ہے، بہت مشکل ہے کہ وہ اس چند روزہ حیات میں تحصیل بھی کرے، پایہء کمال کو بھی پہنچے اور ایسے کام کرے جنھیں بقائے دوام ہو اور خلقِ خدا کو ان سے فائدہ پہنچے۔ وقت ایک نعمت ہے اور خدا کی دوسری نعمتوں کی طرح انسان وقت پر اس کی بھی قدر نہیں کرتا اور قدر اس وقت ہوتی ہے جب کہ انسان کے پاس وقت ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ انسان دنیا میں نہیں رہتا مگر اس کے اعمال رہ جاتے ہیں لیکن کتنے اعمال ایسے ہیں جنھیں بقا ہو اور جو قدر و وقعت سے دیکھے جاتے ہوں اور جو لوگوں کے دلوں پر قبضہ رکھتے ہوں۔(10)
- Q. 4درج ذیل میں سے کسی ایک نثر پارے کی تلخیص کیجیے۔(10)
- (۱)ہر دکھ، ہر عذاب کے بعد زندگی آدمی پر اپنا ایک راز کھول دیتی ہے۔ بودھ گیا کی چھاؤں تلے بدھ بھی ایک دکھ بھری تپّسیا سے گزرے تھے۔ جب پیٹ پیٹھ سے لگ گیا، آنکھیں اندھے کنوؤں کی تہ میں بے نور ہوئیں اور ہڈیوں کی مالا میں بس سانس کی ڈوری اٹکی رہ گئی، تو گوتم بدھ پر بھی ایک بھید کھلتا ہے نروان کُھلا تھا۔ جیسا اور جتنا اور جس کارن آدمی دکھ بھوگتا ہے، ویسا ہی بھید اس پر کھلتا ہے۔ نروان ڈھونڈنے والے کو نروان مل جاتا ہے۔ اور جو دنیا کی خاطر کشٹ اٹھاتا ہے تو دنیا اس کو راستہ دیتی چلی جاتی ہے۔ سو گلی گلی خاک پھانکنے اور دفتر دفتر دھکے کھانے کے بعد قبلہ کے قلب حزیں پر کچھ القا ہوا۔ اور وہ یہ کہ قاعدے قانون داناؤں اور جابروں نے کم زور دل والوں کو قابو میں رکھنے کے لیے بنائے ہیں۔ جو شخص ہاتھی کی لگام ہی تلاش کرتا رہ جائے وہ کبھی اس پر چڑھ نہیں سکتا۔ جام اس کا ہے جو بڑھ کر خود ساقی کو جام و مینا سمیت اٹھا لے۔ بالفاظ دیگر، جو بڑھ کر تالا توڑ ڈالے، مکان اسی کا ہو گیا۔
- (۲)بسنت اور برسات میں لاہور کا آسمان آپ کو کبھی بے رنگ، اکتایا ہوا اور نچلا نظر نہیں آئے گا۔ لاڈلے بچے کی طرح چیخ چیخ کے ہمہ وقت اپنی موجودگی کا احساس دلاتا ہے اور توجہ کا طالب ہوتا ہے کہ ادھر دیکھو! اس وقت مجھے ایک شوخی سوجھی ہے۔ کیسے کیسے رنگ بدلتا ہے۔ کبھی تاروں بھرا۔ بچوں کی آنکھوں کی مانند جگمگ جگمگ۔ کبھی نوری فاصلوں پر کہکشاں کی افشاں۔ اور کبھی اودی گھٹاؤں سے زرتار باراں۔ کبھی تابنے کی طرح تپتے تپتے ایکا ایکی امرت برسانے لگا اور خشک کھیتوں اور اداس آنکھوں کو جل تھل کر گیا۔ ابھی کچھ تھا، ابھی کچھ ہے۔ گھڑی بھر کو قرار نہیں۔ کبھی مہرباں۔ کبھی قہر بداماں۔ پل میں اگن کنڈ، پل میں نیل جھیل۔ ذرا دیر پہلے تھل، بیہڑ، صحراؤں کا غبار اٹھائے، لال پیلی آندھیوں سے بھرا بیٹھا تھا۔ پھر آپی آپ دھرتی کے گلے میں بانہیں ڈال کے کُھل گیا۔ جیسے کچھ ہوا ہی نہ تھا۔
- Q. 5کسی ایک موضوع پر مضمون تحریر کیجیے۔(20)
- (۱)عالمگیریت اور مقامی ثقافتیں۔
- (۲)اردو ناول کے جدید رجحانات۔
- (۳)میر تقی میر، دل اور دلی۔
- Part-II is to be attempted on the separate Answer Book.
- Attempt ALL questions.
- All the parts (if any) of each Question must be attempted at one place instead of at different places.
- Write Q. No. in the Answer Book in accordance with Q. No. in the Q. Paper.
- No Page/Space be left blank between the answers. All the blank pages of Answer Book must be crossed.
- Extra attempt of any question or any part of the question will not be considered.