Skip to content
All Urdu Literature papers

CSS past paper

CSS Urdu Literature Past Paper 2023

CSS Urdu Literature 2023 carries 100 marks over 3 hours. It has 4 questions.

Marks
100
Time
3 hours
Questions
4

How to attempt: Attempt ALL questions.

Questions

Question 1 (Part I) is the paper's MCQs, which are not reproduced here.

  1. Q. 2
    • (الف)
      درج ذیل میں سے کسی ایک جزو کی تشریح کیجئے اور شاعر کا نام بھی لکھیئے۔
      (15)
      • (جزو اوّل)
        • (1)
          کیوں جل گیا نہ تاب رُخِ یار دیکھ کرجلتا ہوں اپنی طاقتِ دیدار دیکھ کر
        • (2)
          واحسر تا کہ یار نے کھینچا ستم سے ہاتھہم کو حریصِ لذتِ آزاد دیکھ کر
        • (3)
          ان آہلوں سے پاؤں کے گھبرا گیا تھا میںجی خوش ہوا ہے راہ کو پرُخار دیکھ کر
        • (4)
          گِرنی تھی ہم پہ برق تجلی ، نہ طُور پردیتے ہیں بادہ ظرفِ قدح خوار دیکھ کر
      • (جزو دوم)
        اے کہ تجھ کو کھا گیا سرمایہ دارِ حیلہ گرشاخ آہو پر رہی صدیوں تلک تیری براتدست دولت آفریں کو مُزدیوں ملتی رہیاہل ثروت جیسے دیتے ہیں غریبوں کو زکاتساحرِ الُموط نے تجھ کو دیا برگِ حثیشاور تو اے بے خبر سمجھا اسے شاخِ نباتنسل ، قومیت، کلیسا، سلطنت ، تہذیب و رنگ'خواجگی' نے خوب چُن چُن کے بنائے مسکرات
    • (ب)
      مندرجہ ذیل میں سے کسی ایک کا جواب لکھیئے۔
      (10)

      فیؔض کی شاعری 'وعدے اور اُمید' کی شاعری ہے۔ اس خیال کی روشنی میں دستِ صبا کا تجزیہ کیجئے۔

      یا

      'راشد کی نظم میں ان کے عہد کی سیاسی و سماجی صورت حال کا عکس بے حد نمایاں ہے' 'ایرن میں اجنبی" کے حوالے سے وضاحت کیجئے۔

  2. Q. 3
    • (الف)
      "احمد ندیم قاسمی نے اپنے افسانوں میں زندگی کے مسائل کے ساتھ انسانی نفسیات کی گرہیں بھی کھولی ہیں" ۔ اس رائے کی روشنی میں 'کپاس کا پھول' کا جائزہ لیجئے۔
      (15)

      یا

      'یوسفی کے ہاں مزاح واقعاتی یا سانحاتی سے زیادہ گفتگو اور تبصرے کا ہے' ۔ 'آب گم' کے حوالے سے وضاحت کیجئے۔

    • (ب)
      مندرجہ ذیل میں سے کسی ایک اقتباس کی تشریح کیجئے نیز مصنف و مضمون کا نام بھی لکھیئے۔
      (10)

      شجرہ اور حویلی بھی ایک ایسی جائے اماں تھی۔ ممکن ہے بے ادب نگاہوں کو یہ تصویر میں ڈھنڈار دکھائی دے لیکن جب قبلہ اس کی تعمیراتی نزاکتوں کی تشریح فرماتے تو اس کے آگے تاج محل سیدھا، سپاٹ ، گنوار گھروندا معلوم ہوتا۔ مثلاً دوسری منزل پر ایک دروازہ نظرآتا تھا جس کی چوکھٹ اور کواڑ جھڑ چلے تھے۔ قبلہ اسے فرانسیسی دریجہ بتاتے تھے۔ اگر یہاں واقعی کوئی ولایتی دریچہ تھا تو یقیناً یہ وہی دریچہ ہوگا جس میں جڑے ہوئے آئینہ جہاں نما کو توڑ کر ساری کی ساری ایسٹ انڈیا کمپنی آنکھوں میں اپنے جوتوں کی دھول جھونکتے گزر گئی۔

      یا

      مرحوم ہماری قدیم تہذیب کا بے مثل نمونہ تھے۔ شرافت اور نیک نفسی ان پر ختم تھی۔ چہرے سے شرافت ، ہمدردی اور شفقت ٹپکتی تھی اور دل کو ان کی طرف کشش ہوتی تھی۔ ان کے پاس بیٹھنے سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ کوئی چیز ہم پر اثر کر رہی ہے۔ درگزر کا یہ عالم تھا کہ کوئی ان سے کیسی ہی بدمعاملگی اور بدسلوکی کیوں نہ کرے ان کے تعلقات میں کبھی فرق نہ آتا ۔ جب ملتے تو اسی شفقت اورعنایت سے پیش آتے۔ اور کیا مجال اس بدسلوکی اور بدمعاملگی کا ذکر زبان پر آنے پائے۔ ایسے لوگ جن سے ہر کوئی حذر کرتا جب ان سے ملنے آتے تو ان کے حسن سلوک اور محبت کا کلمہ پڑھتے ہوئے جاتے تھے۔

  3. Q. 4
    کسی ایک نثر پارے کی تلخیص کیجئے۔
    (10)

    مسلمانوں کے مصائب اگر تمام تر اقتصادی ہوتے تب بھی ان کا حل آسان نہ تھا۔ لیکن اس زمانے میں انہیں جو نئے نئے مسائل پیش آرہے تھے وہ زندگی کے ہر شعبے سے متعلق تھے۔ اقتصادی اور ذہنی پستی کی اصلاح کے لئے ضروری تھا کہ مسلمان انگریزی تعلیم حاصل کریں اوروہ اس سے بدکتے تھے۔ اب تک ان کی ادبی زبان فارسی رہی تھی لیکن اس زبان کا مستقبل تاریک تھا اور اُردو میں غزل گو شعراء کے دواوین کے سوا کوئی قابل ذکر لٹریچر نہ تھا۔ نثر میں بھی گنتی کی چند کتابیں تھیں جن میں علمی مسائل پیش کرنے کی صلاحیت نہ آئی تھی۔ اُردو شاعری بھی نقائص سے پُر تھی اور قوم کی نشو نما میں کسی طرح کارآمد نہ ہو سکتی تھی۔

    یا

    اُردو ادب کی تین اصناف یعنی افسانہ ، شاعری اور تنقید کو نہ صرف اس تحریک نے متاثر کیا بلکہ ادب کی ہیت اجتماعیہ کو انسانی شعور سے رہنمائی حاصل کرنے ، سائنسی انداز میں تجزیہ کرنے اور ان دونوں کے امتزاج سے زندگی کی بصیرتوں کو نئے مفاہیم نکھارنے کی قوت عطاکی ۔ اس تحریک نے منطقی استدلال اور حقیقت پسندانہ تجزیے کو فروغ دیا اور معاشی حقائق کو تسلیم کر کے استحصالی قوتوں کی نشاندہی کی ۔ اس تحریک کے مقاصد میں عوام کی بہبودی اور ایک خوش حال معاشرے کی تعمیر کو فوقیت حاصل تھی۔ چنانچہ بلند انسانیت میں اعتقاد اور کچلے ہوئے عوام کو ایک باعظمت مقام دلانے کی خواہش نے نئے ادباء کو اس تحریک کی طرف متوجہ کیا ۔

  4. Q. 5
    کسی ایک موضوع پر سیر حاصل مضمون لکھیئے۔
    (20)
    • (الف)
      ماحولیات اور ادب
    • (ب)
      اُردو افسانے پر ترقی پسند تحریک کے اثرات
    • (ج)
      اُردو شاعری میں سائنسی شعور
  1. Part-II is to be attempted on the separate Answer Book.
  2. Attempt ALL questions.
  3. All the parts (if any) of each Question must be attempted at one place instead of at different places.
  4. Write Q. No. in the Answer Book in accordance with Q. No. in the Q.Paper.
  5. No Page/Space be left blank between the answers. All the blank pages of Answer Book must be crossed.
  6. Extra attempt of any question or any part of the question will not be considered.

FPSC's wording, numbering and marks, as printed. Obvious misprints (a garbled word, a broken number) are corrected; everything else is kept as FPSC printed it.

The written exam starts with the MPT

Only candidates who pass the MCQ screening test (MPT) sit the written papers. Practice the 200-question MPT under exam conditions first.