Skip to content
All Urdu Literature papers

CSS past paper

CSS Urdu Literature Past Paper 2018

CSS Urdu Literature 2018 carries 100 marks over 3 hours. It has 4 questions.

Marks
100
Time
3 hours
Questions
4

How to attempt: Attempt ALL questions.

Questions

Question 1 (Part I) is the paper's MCQs, which are not reproduced here.

  1. Q. 2
    • (الف)
      درج ذیل میں سے کسی ایک جزو کی تشریح کیجیے اور شاعر کا نام بھی لکھیے۔
      (15)
      • (جزو اوّل)
        • (۱)
          آگہی دامِ شنیدن جس قدر چاہے بچھائےمدعا عنقا ہے اپنے عالمِ تقریر کا
        • (۲)
          عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانادرد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا
        • (۳)
          عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تابدل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہونے تک
        • (۴)
          ایماں مجھے روکے ہے، جو کھینچے ہے مجھے کفر!کعبہ مرے پیچھے ہے، کلیسا مرے آگے
        • (۵)
          مِل ہی جائے گا رفتگاں کا سُراغاور کچھ دن پھرو اُداس اُداس
      • (جزو دوم)
        خودی میں ڈوب جا غافل! یہ سِرِّ زندگانی ہےنکل کر حلقہ شام و سَحر سے جاوِداں ہو جامَصافِ زندگی میں سیرتِ فولاد پیدا کرشبستانِ محبت میں حریر و پرنیاں ہو جاگزر جا بن کے سیلِ تُند رَو کوہ و بیاباں سےگلستان راہ میں آئے تو جوئے نغمہ خواں ہو جاترے علم و محبت کی نہیں ہے انتہا کوئینہیں ہے تجھ سے بڑھ کر سازِ فطرت میں نوا کوئی
    • (ب)
      مندرجہ ذیل میں سے کوئی ایک سوال کا جواب دیجیے۔“شبِ رفتہ” کے حوالے سے مجید امجد کی نظم نگاری کی فکری اور محسوساتی جہتوں کا احاطہ کیجیے۔یافیض نے اردو کی کلاسیکی شاعری کی اعلیٰ روایات اور اظہار کے سانچوں میں جدید موضوعات اور نئی حسیات کو داخل کیا۔ تفصیلی بحث کیجیے۔
      (10)
  2. Q. 3
    • (الف)
      سیرت النبیؐ ایک ادبی شاہکار ہے۔ اس کا مقدمہ میں علامہ شبلی نے سیرت کے لیے جن اُصولوں کا ذکر کیا ہے، وہ کیا ہیں اور ان پر شبلی کی یہ کتاب کہاں تک پورا اترتی ہے؟یامشتاق احمد یوسفی نے کن کن وسیلوں سے مزاح پیدا کیا ہے؟ “آب گم” کی روشنی میں تفصیل سے بیان کیجیے۔
      (15)
    • (ب)
      مندرجہ ذیل اقتباسات میں سے کسی ایک کی تشریح کیجیے نیز مضمون کا عنوان اور مصنف کا نام بھی لکھیے۔“تنہا آدمی کی سوچ اُس کی اُنگلی پکڑ کے کشاں کشاں ہر چھوڑی ہوئی شاہراہ، ایک ایک پگڈنڈی، گلی کوچے اور چوراہے پر لے جاتی ہے۔ جہاں جہاں راستے بدلے تھے، اب وہاں کھڑے ہو کر انسان پر منکشف ہوتا ہے کہ درحقیقت راستے نہیں بدلتے، انسان خود بدل جاتا ہے۔ سڑک کہیں نہیں جاتی۔ وہ تو وہیں کی وہیں رہتی ہیں۔ مسافر کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے۔ راہ کبھی گم نہیں ہوتی۔ راہ والے گم ہو جاتے ہیں۔”یا“اسے پہلی بار یاد آیا کہ وہ تو خالی ہاتھ لاہور جا رہی تھی۔ وہ تو اپنی کمائی گھر ہی میں بھول آئی تھی۔ اُس کا کفن تو وہیں بکسے میں رکھا رہ گیا تھا۔ زندگی سے اتنی محبت بھی کیا کہ انسان اسے بچانے کے لیے بھاگے تو اپنا کفن ہی بھول جائے۔ اور یہ کفن اُس نے کتنی مشقت سے تیار کیا تھا۔ اور اِس پر کتنے چاؤ سے کلمہ شہادت لکھوایا تھا خاک پاک سے۔ اچھے کفن اور اچھے جنازے ہی کے لیے تو وہ اب تک زندہ تھی۔”
      (10)
  3. Q. 4
    کسی ایک نثر پارے کی تلخیص کیجیے۔
    (10)
    • (۱)
      “شاعری کیا ہے؟ قریب قریب ایک ویسا ہی سوال ہے جیسا کہ یہ سوال کہ شاعر کیا ہے؟ ایک کا جواب دوسرے کا جواب ہے۔ کیوں کہ یہ ایک ایسا فرق ہے جو خود شاعرانہ فطرت کا نتیجہ ہے۔ شاعرانہ فطرت خود شاعر کے ذہن کے خیالات، جذبات اور تمثالوں کو سہارا دیتی ہے اور انہیں تبدیل کرتی رہتی ہے۔ شاعر، اپنے عالم کمال میں، انسان کی ساری روح کو حرکت میں لے آتا ہے۔ انسان کی ساری صلاحیتوں کو، ان کی اضافی قدر و قیمت اور منصب و رتبہ کے مطابق ایک دوسرے کے ماتحت لے آتا ہے۔ وہ ہم آہنگی اور اتحاد کی روح پیدا کرتا ہے جو ایک دوسرے سے پیوستہ اور ایک جان کر دیتی ہے۔ یہ عمل وہ اس امتزاجی اور جادو بھری قوت کے ذریعے کرتا ہے جس کو تخیل کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ قوت پہلے ارادہ اور تفہیم کے ذریعے عمل میں آتی ہے اور پھر ان کے ناگزیر اور اٹل کنٹرول — حالانکہ یہ کنٹرول بہت دھیما اور چھپا ہوا ہوتا ہے — کے ذریعے متضاد یا بے ربط صفات کے درمیان توازن اور مفاہمت پیدا کر کے خود کو ظاہر کرتی ہے۔”
    • (۲)
      “آدمی کسی نہ کسی معاشرے میں زندگی بسر کرتا ہے اور کوئی بھی معاشرہ ایسا نہیں ہے جس پر ایک خول روایاتِ کہن کا چڑھا ہوا نہ ہو۔ جس میں زندگی بسر کرنے، اشیا بنانے، پیدا کرنے اور ذہنی تخلیقات کو وجود میں لانے کی کوئی روایت، کمزور یا مضبوط نہ ہو، اس کا کوئی تاریخی چلن نہ ہو۔ چناں چہ اس روایت یا تاریخی چلن کو گزرنے والی نسل، نئی نسل اور آنے والی نسل کو منتقل کرتی رہتی ہے خواہ اس منتقلی کا طریق کار زبانی ہو، تحریری ہو یا عملی مظاہرے کا ہو، یہ بات بہت سامنے کی ہے کہ ہر فن یا ہنر کی ایک روایت ہوتی ہے اور جب کسی معاشرے میں کسی فن یا ہنر کی روایت نہیں ہوتی ہے اور وہ فن یا ہنر بقائے حیات اور تکمیلِ حیات کے لیے ضروری ہوتا ہے تو اسے دوسرے معاشروں سے قرض لیتے ہیں اور اپنے معاشرے کی نفسی کیفیت کے مطابق اس کو پروان چڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کی متعدد مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ اس کے یہ معنی ہوئے کہ لین دین کا عمل، مختلف تہذیبوں اور معاشروں کے درمیان، روایات اور رسم و رواج کی دُنیا میں بھی ہوتا ہے۔ چناں چہ کسی بھی روایت کے بارے میں یہ کہنا کہ اس کی نظیر کسی دوسرے معاشرے میں نہیں ملتی ہے، بہت مشکل ہے۔”
  4. Q. 5
    کسی ایک موضوع پر مضمون تحریر کیجیے۔
    (20)
    • (۱)
      وجودیت کے فلسفیانہ نظریات اور اُردو ادب پر اس کے اثرات کا جائزہ لیجیے۔
    • (۲)
      پاکستانی ادب کیا ہے؟ اس کی تشکیل و روایت اور ارتقائی سفر پر تفصیل سے روشنی ڈالیے۔
    • (۳)
      اُردو نظم کے جدید رجحانات نے ہمیں کس تجربے سے اور فکر کی کن صورتوں سے آشنا کیا ہے؟ وضاحت کریں۔
  1. Part-II is to be attempted on the separate Answer Book.
  2. Attempt ALL questions.
  3. All the parts (if any) of each Question must be attempted at one place instead of at different places.
  4. Candidate must write Q. No. in the Answer Book in accordance with Q. No. in the Q. Paper.
  5. No Page/Space be left blank between the answers. All the blank pages of Answer Book must be crossed.
  6. Extra attempt of any question or any part of the attempted question will not be considered.

FPSC's wording, numbering and marks, as printed. Obvious misprints (a garbled word, a broken number) are corrected; everything else is kept as FPSC printed it.

The written exam starts with the MPT

Only candidates who pass the MCQ screening test (MPT) sit the written papers. Practice the 200-question MPT under exam conditions first.